دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ لیبیا کے ساحل کے قریب ڈوبنے والے بحری جہاز پر سوار 16 پاکستانیوں کی لاشیں برآمد کر لی گئی ہیں۔
یہ واقعہ گزشتہ ماہ مراکش کے قریب اسی طرح کے ایک حادثے کے بعد پیش آیا ہے جس میں 80 مسافروں کو لے جانے والی ایک کشتی الٹ گئی تھی۔ حادثے میں ہلاک ہونے والے کم از کم 13 پاکستانیوں کی شناخت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ 40 سے زائد شہریوں کو مبینہ طور پر کشتی پر سوار افریقی انسانی اسمگلروں نے قتل کر دیا تھا اور صرف 22 افراد اس سانحے میں زندہ بچ پائے تھے۔
دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ طرابلس میں پاکستانی سفارت خانے کی ایک ٹیم نے زاویہ شہر کا دورہ کیا اور مقامی حکام اور زاویہ ہسپتال سے ملاقات کے بعد معلومات اکٹھی کیں۔
غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق کشتی پر 63 پاکستانی سوار تھے اور اب تک 16 لاشیں برآمد ہوئی ہیں اور ان کے پاسپورٹ کی بنیاد پر ان کی پاکستانی شہریت کا تعین کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 37 افراد زندہ بچ گئے ہیں جن میں سے ایک اسپتال میں اور 33 پولیس حراست میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس حادثے میں تقریبا 10 پاکستانی لاپتہ ہیں۔ زندہ بچ جانے والوں میں سے تین طرابلس میں ہیں اور سفارت خانہ ان کی دیکھ بھال کر رہا ہے۔
ایف او کی جانب سے شیئر کی گئی ناموں کی فہرست میں اب تک برآمد ہونے والی لاشوں کی تفصیلات شامل ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ طرابلس میں سفارت خانہ مزید معلومات جمع کرنے اور مقامی حکام کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کے عمل میں ہے۔
ایک روز قبل دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ صورتحال پر نظر رکھنے کے لیے کرائسس مینجمنٹ یونٹ کو فعال کردیا گیا ہے۔
اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے والے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ان نمبروں پر سفارت خانے سے رابطہ کریں: 03052185882، +218913870577، اور +218 91-6425435 (واٹس ایپ)۔
وزارت کے کرائسس مینجمنٹ یونٹ سے 051-9207887 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
0 تبصرے