امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ انہوں نے بدھ کے روز روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ "طویل اور انتہائی نتیجہ خیز" بات چیت کی جس میں انہوں نے یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے "فوری طور پر" بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرنے کی دعوت دی ہے جبکہ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وہ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو فون کر کے فون کال سے آگاہ کریں گے۔


واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان تعلقات میں غیر معمولی سرد مہری کے بعد کریملن نے الگ سے کہا کہ یہ فون کال ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہی اور پوٹن اور ٹرمپ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ 'مل کر کام کرنے کا وقت آگیا ہے'۔

کریملن کے مطابق پیوٹن نے ٹرمپ کو یہ بھی بتایا کہ 2022 میں روس کی جانب سے اپنے مغرب نواز ہمسایہ ملک پر حملے کے بعد پیدا ہونے والے یوکرین تنازع کا 'طویل مدتی حل' ممکن ہے اور انہوں نے امریکی صدر کو ماسکو آنے کی دعوت دی۔

ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان یہ فون کال رواں ہفتے قیدیوں کے تبادلے کے بعد سامنے آئی ہے جس میں ماسکو نے امریکی ٹیچر مارک فوگل کو رہا کر دیا تھا جبکہ واشنگٹن نے روسی کرپٹو کرنسی کے سرغنہ الیگزینڈر وونک کو رہا کر دیا تھا۔

ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں روسی صدر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ پیوٹن نے 'میری انتخابی مہم کا مضبوط نصب العین 'کامن سینس' بھی استعمال کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دونوں نے اتفاق کیا کہ ہم روس اور یوکرین کے ساتھ جنگ میں ہونے والی لاکھوں ہلاکتوں کو روکنا چاہتے ہیں'۔

ٹرمپ نے کہا کہ ہم نے ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کرنے سمیت مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

ہم نے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ ہماری متعلقہ ٹیمیں فوری طور پر مذاکرات شروع کریں گی اور ہم یوکرین کے صدر زیلنسکی کو فون کرکے بات چیت سے آگاہ کریں گے۔

ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو، سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف، قومی سلامتی کے مشیر مائیکل والٹز اور مشرق وسطیٰ میں ان کے سفیر اسٹیو وٹکوف سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات کی قیادت کریں۔